سیستان و بلوچستان پورٹس اینڈ شپنگ کے ڈائریکٹر نے کہا:

سن 2020ء میں 45 ہزار ٹن معدنیاتی مواد کا برآمد/ عالمی سطح پر کرونائی ہنگامے کے باوجود، چابہار پورٹ میں، 6 جہازوں کے ایک ہی وقت میں لوڈ اور اِن لوڈ

سن 2020ء میں 45 ہزار ٹن معدنیاتی مواد کا برآمد/ عالمی سطح پر کرونائی ہنگامے  کے باوجود، چابہار پورٹ میں، 6  جہازوں کے ایک ہی وقت میں لوڈ اور اِن لوڈ
صوبہ سیستان و بلوچستان پورٹس اینڈ شپنگ کے ڈائریکٹر نے چابہار پورٹ میں، 6 جہازوں کے ایک ہی وقت میں لوڈ اور اِن لوڈ میں کامیابی کی خبر دی:

بہروز آقائی نے  کہا کہ : ملک میں کرونائی حالات کے باوجود چابہار پورٹ میں تجارت کی رونق دو بالا ہو گئی ہے۔ وہ بھی کچھ اس طرح کہ بنیادی ضرورت کے سامان کے حامل  4 جہازوں اور کینٹینز کے حامل ایک جہاز  کے ایک ہی وقت میں لوڈ  اور ان لوڈ  کا عمل اس بندرگاہ میں ممکن ہوگیا ہے۔

اس نے ان بنیادی ضرورت کے سامان کے حامل جہازوں  کے کل وزن کو 274 ہزار ٹن بتاتے ہوئے مزید کہا: اس عرصے میں ان جہازوں کے ذریعے 208  ہزار ٹن گندم اور 66 ہزار  ٹن جُو، براہ راست مبدأ ملک سے بندر چابہار کو درآمد ہوا ہے۔

جناب آقائی نے اس اسٹرٹجیک بندرگاہ  میں سے برآمدات کی مناسب گنجائش  میں سے سیمنٹ اور کلینکر فیکٹریوں اور  بھرپور معدنیات  کی موجودگی کا ذکر کر کے  کہا کہ   اس وقت  معدنیات  کی برآمدات کے لئے ایک 45 ہزار ٹن کے جہاز  امارت جانے کے لئے لوڈنگ  میں ہے ۔ در اصل  نئے ایرانی سال  میں معدنیات کی بر آمد  کی یہ پہلی کھیپ ہوگی۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے یہ کہا کہ چابہار پورٹ کی گنجائش میں اضافہ ،  اس کےساز و برگ ،انفراسٹرکچر  اور ہنٹرلینڈ میں توسیع اور بین الاقوامی سمندرو ں تک رسائی، کارو باری  لوگوں کے لئے   ترغیبی پکیجز کی فراہمی کی وجہ سے ، اس اسٹرٹجیک پورٹ سے برآمدات میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے۔

صوبہ سیستان و بلوچستان پورٹس اینڈ شپنگ کے ڈائریکٹر نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ دو ہفتوں میں  بنیادی ضروریات کے سامان  کے حامل گیارہ جہازوں  نے مشرقی صوبوں کی بنیادی ضروریات کے سامان کو ملک کے اندر لے آئے ہیں۔

آقایی کا کہنا ہے کہ چابہار پورٹ سے سامان کے ان لوڈنگ کے کام  مثبت انداز میں سرانجام پا رہے ہیں ۔ بلک سامان روزانہ 13500 ٹن میں اور معدنیاتی سامان 10 ہزار ٹن ایک دن میں جہاز سے ان لوڈنگ ہوتے ہیں۔

انھوں نے یوں وضاحت دی کہ اس ادارے کا اصل نصب العین  پورٹس میں  بندرگاہی گنجائش سے بہتر فائدہ اٹھانا ، درآمدی سامان کے عدم نقل و حمل کا روکنا اور  تجارتی سامان کے درآمدی عمل میں تیزی ہے۔

May 14, 2020 08:16

نظرات بینندگان

کریکٹر بایاں: 500
تبصرہ کی ضرورت ہے