صوبے سیستان و بلوچستان پورٹس اینڈ شپنگ کے ڈائریکٹر بہروز آقائی نے کہا:

ہندوستان کی جانب سِے افغانستان کے لئے گندم کی دوسری امدادی کھیپ/ ہندوستان سے افغانستان کے لئے دس ہزار ٹن گندم کے براہ راست تحفے کی ترسیل/ عالمی سطح میں چابہار بندرگاہ کی کثیرالاہدافی

ہندوستان  کی جانب سِے  افغانستان کے لئے گندم کی دوسری امدادی  کھیپ/ ہندوستان سے افغانستان  کے لئے دس ہزار ٹن گندم کے  براہ راست تحفے کی ترسیل/ عالمی سطح میں چابہار  بندرگاہ کی   کثیرالاہدافی
صوبہ سیستان و بلوچستان پورٹس اینڈ شپنگ کے ڈائریکٹر نے کہا: ہندوستان کی افغانستان کے لئے گندم کی دوسری امدادی کھیپ کے بحری جہاز کی آج چابہار پورٹ میں لوڈنگ

بہروز آقائی نےمزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ: طے شدہ پروگرام کے تحت انڈیا کے جدید  انسانیت پسند تحفے،  ، 75 ہزار ٹن گندم  کی امدادی کھیپ کی صورت میں چابہار سے ہوتے ہوئے اس سمندری پورٹ میں پہنچی۔

آقائی کے مطابق اس کھیپ کا پہلا حصہ 203  کنٹینرز میں 5 ہزار ٹن  میں 15 آپریل کو چابہار پورٹ سے 12 دنوں میں مکمل طور پر افغانستان پہچادیا گیا۔ اس نے مزید کہا کہ اس امدادی کھیپ کے دوسرے حصے کو لے جانے کے لئے  ، ایک جہاز شہید بہشتی بندرگاہ میں پہنچ گیا۔

پورٹ کے اس عہدہ دار نے مزید وضاحت کی کہ یہ کھیپ  آج 13 مئی کو20 فٹ کے   435 کنتینرز میں   دس ہزار ٹن کی مقدار میں کاشان نامی جہاز  سے  اس اسٹرٹیجک پورٹ  پہنچی۔

آقائی کے مطابق یہ کھیپ، کسٹم ایڈمنسٹرکشن کی کارروائیوں کے  بعد براہ راست ترسیل کی صورت میں ٹرکوں کے ذریعےمیلک- زرنج بارڈر  سے ہرات، قندہار، بغلان، کابل اور بلخ پہنچائے جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ چابہار پورٹ کی کارکردگی میں  تبدیلی  کے بعد اس وقت یہ بندرگاہ  ایک روائتی پورٹ شمار نہیں ہوتی ہے۔بلکہ اس کی لوڈ اور ان لوڈنگ کی گنجائش میں اضافہ ہوا ہے اور اب  اسٹرٹجیک ساز و برگ کے مکمل ہونے کے بعد عالمی سطح پر کثیرالاہدافی پورٹ سمجھی جاتی ہے۔

 صوبہ سیستان و بلوچستان پورٹس اینڈ شپنگ کے ڈائریکٹر نے یہ بھی کہا کہ چابہار پورٹ میں عملی اقدامات اٹھانے   اور اس کے بطور   قومی و بین الاقوامی پورٹ کے کردار کی ادائیگی کے ساتھ اور  اسی طرح انفرسٹریکچر  سامان کی توسیع ، لوڈ اینڈ ان لوڈ میں عدم محدودیت کے پیش نظر ،  ہر قسم کے  سمندری جہازوں    کے بندرگاہ میں  داخل ہونے   کی گنجائش بھی رکھتی ہے۔

May 17, 2020 10:52

نظرات بینندگان

کریکٹر بایاں: 500
تبصرہ کی ضرورت ہے